jump to navigation

Amaliyat me Reyazat ka mafhoom January 18, 2018

Posted by rohaniyat in Aurato Ke Masa'il, Bacho ke Masa'il, Court Muqadamat, Dream meaning, istikhara, Jinn, mujarab totkay, Rohani Amliyat/wazaif/mujaribat, Rohani Articles, Shadi Aur Rishte, Uncategorized.
Tags: , , , , , , , , ,
trackback

ریاضت نفس اور روح کی اعمال کی مشق کانام ہے جس میں اعمال کی تلاوت سے توانائی بنتی ہے اور اس توانائی سے کام لیا جاتا ہے اسکے بے شمار فوائد ہیں جن کا تذکرہ آگے چل کر آپ پر عیاں ہوگا ان شاء اللہ  اور غالبا اس کے لیے روزہ رکھنا شرط نہیں ہوتا لیکن دوران ریاضت روزہ رکھنا زیادہ فائدے مند ہے اور ریاضت چلہ کشی کا پہلا قدم ہے یعنی ریاضت کے دروازے سے گزر کر طالب علم  چلہ کشی کا رخ کرتا ہے اور  ریاضت  چلہ کشی میں کامیابی میں بہت اہم کردار  ادا کرتی ہے یعنی طالب علم کو مستعد اور تیار کرتی ہے اپنے جوہر دکھانے کے لیے اس کی مثال تن ساز یا ویٹ لیفٹر حضرات جیسی ہے وہ پورا سال محنت کرتے ہیں اور وزن اٹھاتے ہیں اور بالآخر  ایک دن مقابلے میں حصہ لیتے ہیں اگر پہلے دن ہی ارادہ کرتے ہی مقابلے میں دا!خل ہوجاتے تو شاید ناکام ہوجاتے لیکن تیاری کے ساتھ انکے لیے کامیابی قریب تر ہوتی ہے  اسماء حسنی یا آیات کی ریاضت سے طالب علم اور روحانیت میں تعارف اور انسیت پیدا ہوتی ہے جس سے طالب علم انھیں اپنے ارد گرد محسوس کرنے لگتا جس سے طالب کو فائدے بھی ہوتے ہیں مثلا جیسے سکون راحت انجان خوشی اور لوگوں کا طالب کی طرف مائل ہونا مسخر ہونا یہ اثرات ریاضت کے ساتھ دائم بھی رہ سکتے ہیں اور  ریاضت چھوڑنے پر زائل بھی ہوسکتے ہیں یا ساری عمر بھی رہ سکتے ہیں اس کی مثال نماز کے بعد کے اوراد یا وظائف کی روحانیت ہے اور  ریاضت کے دوران پرہیز جلالی و جمالی بھی مفید ہے لیکن شرط نہیں پرہیز دوران ریاضت  روزے کی جگہ استعمال کیا جا سکتا ہے جیسے اگر کوئی روزے کی استطاعت نہیں رکھتا دوران ریاضت وہ پرہیز سے ہی اکتفا حاصل کرسکتا ہے. 

واللہ اعلم بالصواب

طالب دعا

یاسین قادری 

%d bloggers like this: