jump to navigation

ism e azam ki talash January 17, 2018

Posted by rohaniyat in Aurato Ke Masa'il, Bacho ke Masa'il, Court Muqadamat, Dream meaning, istikhara, Jinn, mujarab totkay, Rohani Amliyat/wazaif/mujaribat, Rohani Articles, Shadi Aur Rishte.
Tags: , , , , , , , , ,
trackback

ismeazamبهت سے لوگ راز کی تلاش میں هوتے هیں لیکن بهت کم افراد راز کے راز کی تلاش کرتے هیں فطرتا ہر کوئی اپنی زندگی میں یا کم از کم اپنی شخصیت میں فوق الفطرت چیز کے اضافے کا خواهشمند هوتا هے کیونکه ما فوق الفطرت اشیاء انسان کے لیے مجهول و غیر معروف هوتی ہیں جوکه بذات خود خوفزده خیز هے اس لیے وه اپنے آپ کو اس خوفزدگی سے نکال کر دوسروں کو خوفزده کرنے کی بهی کوشش میں بهی لگ سکتا هے بهرحال راز همیشه راز هی رهتا هے ورنه راز هی نهیں کهلاتا اور اگر کسی کو سکهایا جا سکتا هوتا تو پهر بهی راز نا رهتا ……

اسکا مطلب راز دیا جاتا هے سکهایا نهیں جاتا
شمس المعارف میں ایک نوجوان کا قصه درج هے جس نے ایک شیخ کی خدمت کی ۲۰ سال جسکے بارے میں مشهور تها که اسکے پاس اسم اعظم هے کی تھی خیر قصه مختصر یه که جب اس نوجوان نے اپنے شیخ سے اسم اعظم کی تلقین کی خواهش کا اظهار کیا تو شیخ نے انهے بتایا که اسم اعظم آپ هو
یعنی اسم اعظم انسان خود هے کیونکه انسان هی واحد مخلوق هے جو که موجودات و معادن کی اور طبائع کی جامع هے یعنی اسکے اندر موجود هے اور اسکی محرک روح الله جل شانه کا حکم هے ویسے وضاحت کے لیے اتنا هی کافی هے کی من عرف نفسه عرف ربه یعنی جس نے اپنے آپ کو پهچان لیا اسنے اپنے رب کے پهچان لیا
خلاصه یه که جس کے پاس اسم اعظم هوگا وه کسی کو نهیں بتا سکتا کیونکه وه راز هے اور وه راز اسکو خود نهیں معلوم تو کسی دوسرے کو کیا بتاسکتا هے؟ لیکن لوگوں کو مشورے ضرور دے سکتا هے که فلاں معمولات اور ترکیب سے گزر کر وه اس درجے تک پهنچا سو ان کو اس راستے پر لگا سکتا هے جو اسنے اختیار کیا اس امر کی تصدیق حضرت سلیمان علیه السلام کے وزیر آصف بن برخیا کی مثال هے جو اپنے ضمیر سے  عرش کو لائے جبکی انکے مقابلے والا عفریت فعل سے لاتا اسکا مطلب وزیر اپنے آپ کو پهچان گیا تها ؟ کیا انسان کا ضمیر اسکی پهچان نهیں؟ وه اپنی مقدرت پر مقتنع تها یا مقتدر کی قدرت کا معترف تها؟ یه سوالیه نشان میرے اور آپ کے لیے هیں سوچنے سمجهنے کے لیے مزید تحقیق کرنے کے لیے
جب انسان کسی کو جاننا چاهتا هے تو اس کے ساتهه زیاده سے زیاده وقت وقت گزار کر هی جانتا هے اسی طرح کسی چیز کے بارے میں تحقیق کرکے اس چیز کا ماهر کهلاتا هےاور کهتے هیں که اگر کوئی شخص کسی قوم کے ساتھه چالیس دن گزار لے وه ان میں سے هو جاتا هے شاید اسی لیے موسی علیه السلام بهی چالیس دن کے لیے اپنے رب سے ملنے گئے اور جب انسان چالیس سال کا هوجاتا هے کافی معتدل مزاج هوجاتا هے شاید اسلیے که وه اپنے آپ کو جان چکا هوتا هے؟ اور شاید اسی لیے کتابوں میں ریاضتوں کی مدت چالیس دن هوتی هے جسکو هم عرف عام میں چله کهتے هیں یعنی چالیس دن کی مدت شخص اپنے ضمیر کے ساتھ گزارتا هے اپنے آپ کو جاننے کے لیے
والله اعلم بالصواب
طالب دعا
یاسین قادری

%d bloggers like this: